سلطنتِ عثمانیہ کی ساڑھے چھ سو سالہ تاریخ جہاں اپنی فتوحات اور وسیع رقبے کی وجہ سے جانی جاتی ہے، وہاں اس کا ایک بڑا کریڈٹ اس کے بے مثال عسکری نظام کو جاتا ہے۔ عثمانی فوج کی ریڑھ کی ہڈی اور دنیا کی پہلی منظم “اسٹینڈنگ آرمی” (Standing Army) کو یِنی چِری (Janissaries) کہا جاتا ہے۔

یہ دستہ اپنے وقت کا دنیا کا سب سے زیادہ منظم، ڈسپلنڈ اور ہولناک فوجی دستہ تھا جس کے سامنے آنے سے یورپ کے بڑے بڑے بادشاہ کانپ اٹھتے تھے۔ لیکن تاریخ کا یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ جس فوج نے عثمانی سلطنت کو عروج کی بلندیوں پر پہنچایا، ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہی فوج سلطنت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئی۔
ینی چری کا آغاز اور “دوشیرمہ” کا نظام
ینی چری (ترکی زبان میں ‘Yeniçeri’ یعنی نیا لشکر) کی بنیاد ۱۴ ویں صدی کے وسط میں سلطان اورخان غازی یا سلطان مراد اول کے دور میں رکھی گئی۔ اس فوج کی تشکیل کے لیے ایک خاص نظام اپنایا گیا جسے دوشیرمہ (Devshirme System) کہا جاتا تھا۔
- تربیت اور انتخاب: عثمانی سلطنت کے یورپی مقبوضات (بالخصوص بلقان کے خطے) سے عیسائی خاندانوں کے ذہین اور صحت مند بچوں کو منتخب کیا جاتا تھا。
- اسلامی سانچے میں ڈھالنا: ان بچوں کو استنبول اور اناطولیہ لا کر مسلمان کیا جاتا، انہیں ترکی زبان، اسلامی علوم، اور سخت ترین فوجی آداب سکھائے جاتے تھے۔
- وفاداری کا محور: ان بچوں کا اپنا کوئی خاندان یا ماضی نہیں ہوتا تھا، اس لیے ان کی تمام تر وفاداری صرف اور صرف ریاست اور وقت کے عثمانی سلطان کے لیے مخصوص ہوتی تھی。
سخت قوانین اور منفرد طرزِ زندگی
ینی چری کوئی عام فوج نہیں تھی، بلکہ یہ ایک طرح کے “فوجی درویش” یا نائٹس (Knights) تھے۔ ابتدائی صدیوں میں ان کے لیے بنائے گئے قوانین انتہائی سخت تھے:
- شادی پر پابندی: ایک سرگرم ینی چری سپاہی کو ریٹائرمنٹ سے پہلے شادی کرنے کی اجازت نہیں تھی تاکہ ان کا دھیان فیملی کی طرف نہ بٹے۔
- کاروبار کی ممانعت: وہ تجارت یا کوئی دوسرا کاروبار نہیں کر سکتے تھے۔ ان کا واحد مقصد صرف جنگ کی تیاری اور سلطان کا دفاع تھا۔
- بیرکوں میں رہائش: وہ عام آبادی سے الگ اپنی بیرکوں میں رہتے تھے اور روزانہ کڑی عسکری مشقیں کرتے تھے۔
میدانِ جنگ میں ینی چری کی طاقت اور بارود کا استعمال
جب ۱۴۵۳ء میں سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا، یا جب سلطان سلیمان نے موہاکس کے میدان میں ہنگری کو شکست دی، تو ینی چری ہی وہ آخری اور فیصلہ کن دستہ تھا جسے جنگ کا پانسہ پلٹنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا。
- بندوقوں کا ابتدائی استعمال: ینی چری دنیا کی ان پہلی افواج میں شامل تھی جنہوں نے مچ لاک (Matchlock) بندوقوں اور بارود کا باقاعدہ اور منظم استعمال شروع کیا۔
- مہتر بینڈ (Military Band): جنگ کے دوران عثمانی فوجی بینڈ (Mehter) ایک خاص تھاپ پر موسیقی بجاتا تھا، جس کا مقصد عثمانی سپاہیوں کا خون گرمانا اور دشمن کے دلوں پر ہیبت طاری کرنا تھا۔
عروج سے زوال تک: جب محافظ ہی خطرہ بن گئے
۱۷ ویں صدی کے آتے آتے، عثمانی سلطنت کے حالات بدلنے لگے اور اس کے ساتھ ہی ینی چری کے ڈسپلن میں بھی بگاڑ پیدا ہو گیا۔
قوانین میں نرمی اور کرپشن
وقت کے ساتھ ینی چری کو شادی کرنے اور کاروبار کرنے کی اجازت مل گئی۔ اب ان کی توجہ میدانِ جنگ سے ہٹ کر اپنی جائیدادوں اور خاندانی مفادات پر مرکوز ہونے لگی۔ مزید برآں، دوشیرمہ کا نظام ختم کر دیا گیا اور عام ترک شہریوں کو سفارش اور رشوت کے ذریعے اس ایلیٹ فورس میں شامل کیا جانے لگا۔
دربار کی سیاست اور سلاطین کا قتل
ینی چری اتنی طاقتور ہو چکی تھی کہ وہ عثمانی دربار کی سیاست کو کنٹرول کرنے لگی。 اگر کوئی سلطان ان کی مرضی کے خلاف فیصلہ کرتا یا فوج میں اصلاحات لانے کی کوشش کرتا، تو یہ بیرکوں سے باہر نکل کر بغاوت کر دیتے تھے۔ انہوں نے سلطان عثمان ثانی (Osman II) اور سلطان سلیم ثالث (Selim III) جیسے اصلاح پسند سلاطین کو تخت سے ہٹا کر بے دردی سے شہید کر دیا。
۱۸۲۶ء: “واقعہ خیریہ” اور ینی چری کا مکمل خاتمہ
جب سلطان محمود ثانی تخت پر بیٹھے، تو وہ سمجھ گئے کہ جب تک اس سرکش فوج کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا، عثمانی سلطنت جدید دور کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے خفیہ طور پر ایک نئی، جدید طرز کی فوج تیار کی جسے “آصفِ محمدیہ” کا نام دیا گیا۔

جون ۱۸۲۶ء میں جب ینی چری نے حسبِ روایت استنبول میں دوبارہ بغاوت کی، تو سلطان محمود ثانی نے اتمامِ حجت کے طور پر رسول اللہ ﷺ کا پرچمِ مبارک (Sancak-ı Şerif) لہرایا اور عوام کو اپنے ساتھ ملا لیا۔
- فیصلہ کن کارروائی: عثمانی توپ خانے نے ینی چری کی بیرکوں کو چاروں طرف سے گھیر کر ان پر گولہ باری کر دی۔
- خاتمہ: اس کارروائی میں ہزاروں باغی مارے گئے، اور بچے کچھے افراد کو سزائے موت دے دی گئی۔ عثمانی تاریخ میں اس دن کو واقعہ خیریہ (The Auspicious Incident) کہا جاتا ہے، جس کے بعد ینی چری کا ساڑھے چار سو سالہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔