The Mughal Empire From Babur’s Cannons to Bahadur Shah Zafar’s Exile
یہ کوئی عام آدمی نہیں… وہ ہندوستان کا بادشاہ ہے! اس خاندان کی آخری کڑی جو کبھی دنیا کی امیر ترین سلطنت پر حکومت کرتا تھا! وہ جس کے سامنے انگریز سر جھکاتے تھے… اور اجازت مانگتے تھے! لیکن آج اس خاندان کا آخری فرد… انہی انگریزوں کے سامنے اپنی جان کی بھیک مانگ رہا ہے! یہ آخری مغل بادشاہ ہے… بہادر شاہ ظفر! بے گھر، کھنڈرات میں… لیکن کیوں؟ مغلوں کو اس ذلت اور بے بسی کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ کیا یہ انگریزوں کی سازش تھی؟ اپنوں کی غداری… یا کچھ اور؟ کیا مغل بیرونی دشمنوں سے شکست کھا گئے، یا ان کے اندر کوئی چیز تھی جس نے انہیں کھوکھلا کر دیا؟

The Mughal Empire From Babur’s Cannons to Bahadur Shah Zafar’s Exile
آج ہم بات کریں گے… مغلیہ سلطنت کے عروج و زوال کی کہانی! آج ان کی تعریف کی جائے گی، لیکن دل تھام لیجیے، کیونکہ تنقید بھی ہوگی… اور وہ سخت ہوگی!
مغلیہ سلطنت کی کہانی کسی بڑی فتح کے ساتھ شروع نہیں ہوتی… یا کسی جشن کے ساتھ، بلکہ ایک شکست خوردہ شہزادے کے آنسوؤں کے ساتھ… جس کا نام تھا بابر! تاریخ اسے مغلیہ سلطنت کا بانی کہتی ہے، لیکن سچ یہ ہے، وہ صرف ایک پناہ گزین تھا… بس! اس کی رگوں میں دو عظیم فاتحوں کا خون دوڑتا تھا… باپ کی طرف سے تیمور اور ماں کی طرف سے چنگیز خان! لیکن اس کی قسمت میں ایک ٹکڑے زمین کی ملکیت بھی نہیں تھی… لیکن کیوں؟ بابر نے ہندوستان کو فتح کیا، تو ہم ایسا کیوں کہتے ہیں؟
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ بابر کی منزل کبھی دہلی نہیں تھی… اس کا جنون سمرقند تھا، اپنے پردادا تیمور کا شہر! اس نے سمرقند کو تین بار فتح کیا۔ ہاں! تین بار، اور تین بار اسے شہر چھوڑنا پڑا… کبھی ازبکوں سے شکست کھا کر، کبھی دیگر وجوہات کی بنا پر! اور پھر وہ وقت آیا… جب وہ وسطی ایشیا کے پہاڑوں میں چھپا ہوا تھا… اس کے پاس صرف چند وفادار ساتھی تھے، بس!
بابر کی ایک دلچسپ عادت تھی، وہ ایک ڈائری لکھتا تھا… جو بعد میں “تزک بابری” کے نام سے دنیا کے سامنے آئی۔ اس کتاب میں اس نے لکھا: “میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھٹک رہا ہوں… گیند کی طرح!” شمال کے دروازے اس پر بند ہو چکے تھے… تو مایوسی میں اس نے جنوب کا راستہ اختیار کیا۔

وہ فوجی لحاظ سے ذہین تھا… چنانچہ اس نے کابل کو فتح کیا، اور ایک چھوٹی سی ریاست قائم کر لی! اور وہاں سے اس نے ہندوستان کی طرف رخ کیا… اس نے یہ سفر خواہش سے نہیں کیا، اسے بابر کی مجبوری سمجھیے… یہ اس کا پلان بی تھا، کیونکہ اسے زندہ رہنے کے لیے ایک ملک چاہیے تھا! بہرحال، انسان کہیں بھی اور کسی بھی حالت میں زندہ رہ سکتا ہے… لیکن حوصلہ مندوں کے دماغ کچھ اور ہی طرح سے کام کرتے ہیں!
چنانچہ بابر آگے بڑھا، چلتا رہا… یہاں تک کہ اپریل 1526 میں، وہ دہلی کے قریب پانی پت کے میدان میں کھڑا تھا! ہاں! بابر ہندوستان کے دروازوں پر آ پہنچا تھا… اور یہاں اس کا مقابلہ دہلی کے سلطان ابراہیم لودھی سے ہوا!
کہا جاتا ہے کہ بابر کے پاس صرف 12,000 سپاہی تھے… اور اس کے سامنے دو، شاید تین گنا بڑی فوج تھی! درحقیقت، تزک بابری میں بابر لکھتا ہے کہ ابراہیم کی فوج ایک لاکھ نفوس پر مشتمل تھی! اگر نہ بھی، تو اس کے پاس جنگی ہاتھی ضرور تھے… انہیں اس دور کے ٹینک سمجھیں، جن کے مقابلے میں نہ صرف بابر، بلکہ بڑے بڑے گھڑسوار نہیں ٹھہر سکتے تھے!
لیکن، بابر کے پاس وہ چیز تھی جو ہندوستان نے کبھی نہیں دیکھی تھی… ایک گیم چینجر ٹیکنالوجی… بارود! بابر عثمانیوں سے بہت متاثر تھا… اور ان کی ٹیکنالوجی اپنے ساتھ لایا تھا! بابری فوج کے پاس توپیں اور بندوقیں تھیں… یہ اس کا خفیہ ہتھیار تھا!
The Mughal Empire From Babur’s Cannons to Bahadur Shah Zafar’s Exile
جب روزوں انتظار کے بعد آخر کار جنگ شروع ہوئی، اور لودھی کے ہاتھی آگے بڑھے، بابر نے اشارہ کیا… ہندوستان میں پہلی بار ایسی آواز گونجی جو کبھی نہیں سنی گئی تھی! توپوں کی گرج، گویا قیامت کا صور پھونک دیا گیا ہو! دھماکوں اور دھوئیں نے ہاتھیوں کو پاگل کر دیا… وہ درندے جو بابر کی فوج کو کچلنے آئے تھے… واپس پلٹے اور گھبرا کر اپنے ہی سپاہیوں کو روند دیا! لودھی کی فوج چند ہی گھنٹوں میں لاشوں کے ڈھیر میں بدل گئی، یا میدان سے بھاگ گئی! صرف آدھے دن میں ہندوستان کی تقدیر کا فیصلہ ہو گیا!
وہ شخص جو اپنے وطن میں ناکام رہا، سیریل لوزر بابر… ایک نئے ملک میں کامیاب ہوا… اس نے ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی — مغلیہ سلطنت! لیکن ایک دلچسپ حقیقت، انہوں نے کبھی خود کو “مغل” نہیں کہا! دراصل “مغل” فارسی لفظ ہے “منگول” کے لیے… ہندوستان میں انہیں مغل کہا جاتا تھا… کیونکہ وسطی ایشیا سے آنے والی ہر ترک زبان بولنے والی فوجی اشرافیہ کو مغل کہا جاتا تھا! سچ تو یہ ہے کہ مغل کبھی خود کو مغل نہیں کہتے تھے… وہ خود کو تیموری کہتے تھے!
تو اس عظیم فتح کے بعد، مغل، یا تیموری سلطنت بن گئی… تو بابر کو سکون مل گیا ہوگا؟ بالکل نہیں! یہ اس کی کہانی کا عجیب تضاد ہے — بابر کو ہندوستان بالکل پسند نہیں تھا! اسے یہاں کے لوگ پسند نہیں تھے، نہ گھوڑے… نہ پھل، نہ کھانا، نہ موسم، کچھ بھی نہیں! لیکن خواہ وہ پسند کرے یا نہ کرے، بابر واپس نہیں گیا!
اب دہلی بابر کی تھی، آگرہ بابر کی تھی… ایسی جگہیں جنہیں فتح کرنا آسان ہو، لیکن سنبھالنا بہت مشکل۔ مارچ 1527 میں، راجپوت بادشاہ رانا سانگا دہلی پہنچا — وہی رانا سانگا جس نے کبھی بابر کو ابراہیم لودھی پر حملہ کرنے کی دعوت دی تھی! شاید اس لیے کہ دہلی سلطنت کے دور میں، اس کے لیے خود دہلی پر حملہ کرنا ممکن نہیں تھا! لیکن یہ نئے مغل، جن کے دل یہاں رہنے کے لیے بھی نہیں تھے… شکست دینے میں آسان لگے! شاید یہ سوچ کر، رانا سانگا نے بابر کو لودھی پر حملہ کرنے کی دعوت دی… لیکن جب قبضہ ہوا، تو وہ سب سے بڑے مخالف کے طور پر کھڑا ہو گیا! اس کی راجپوت کنفیڈریشن نے ایک لاکھ کی فوج اکٹھی کی… اس میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے… یہ ایک ایسی فوج تھی جو دہشت مچا دیتی تھی!
بابر اتنا گھبرا گیا کہ اس نے شراب ترک کر دی… اس نے یہاں تک عہد کیا کہ اگر وہ جیت گیا تو ہر مسلمان کے ٹیکس ختم کر دے گا! ہاں! یہ وہی بابر تھا جو کہتا تھا: “بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست!” (اے بابر، ان لمحات سے لطف اندوز ہو، کیونکہ دوسری زندگی نہیں ہے) لیکن اب، ایک تائب بابر سامنے آیا۔
جنگ خانواہ میں، اس کا سامنا رانا سانگا سے ہوا، اور کیا جنگ تھی! یہاں بھی بابر کی توپ خانہ فیصلہ کن عنصر ثابت ہوا! بابر پھر سے جیت گیا، دہلی کے تخت کے دو سب سے بڑے دعویداروں کو ختم کر کے، اس نے ثابت کر دیا کہ دہلی اب صرف اس کی ہے! لیکن یہ سب کرنے کے بعد بھی، وہ زیادہ دیر دہلی پر حکومت نہ کر سکا! اس عظیم فتح کے صرف تین سال بعد، دسمبر 1530 میں، وہ صرف 47 سال کی عمر میں مر گیا!
اس کے بعد، بابر کا پسندیدہ بیٹا ہمایوں بادشاہ بنا… جس طرح تیمور جیسے ظالم کی اولاد بہت مختلف تھی… بابر کا بیٹا اس سے مکمل طور پر مختلف تھا! سمجھیے کہ وہ بادشاہت کے لیے نہیں بنا تھا… ایک بہت نیک، نرم دل، اور تھوڑا سا توہم پرست آدمی! وہ سیاست سے زیادہ ستاروں کی حرکت میں دلچسپی رکھتا تھا! اور ہندوستان کو پکڑنے کے لیے ضروری تھا کہ آپ کا دماغ فوجی انداز میں کام کرے! شاید اسی لیے وہ سلطنت کو نہ سنبھال سکا… کیونکہ اس کا سامنا ہندوستان کے سب سے ذہین آدمی سے تھا… شیر خان عرف شیر شاہ سوری! ایک افغان رہنما، جس نے مغلوں کو ہندوستان سے نکال باہر کیا!
چوسہ اور قنوج کی لڑائیوں میں، ہمایوں کی فوج اتنی بری طرح شکست کھا گئی… کہ وہ بمشکل جان بچا کر بھاگا! سلطنت ختم ہو گئی، ایک دو سال کے لیے نہیں، بلکہ 15 سال کے لیے! یہ آج کی جمہوری حکومت کی تین مدتوں کے برابر ہے! یہ مغل تاریخ کا بہت ہی شرمناک باب تھا! ان کا بادشاہ بھاگ رہا تھا، راجستھان کی گرمی میں، سندھ کے صحراؤں میں… اس کے پاس نہ فوج تھی، نہ تخت، اور نہ حکومت! وہ نہ کابل جا سکتا تھا، نہ کہیں اور… کیونکہ کوئی اسے دیکھنا نہیں چاہتا تھا! یہ اس وقت کی حقیقت تھی — میدان جنگ میں اپنے آپ کو ثابت کرو… ورنہ تمہارا بھائی بھی تمہارا نہیں ہے!
چنانچہ اس بھاگ دوڑ میں، سندھ کے صحرا میں… ایک جگہ جسے عمرکوٹ کہتے ہیں، ہمایوں کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا! اس کا نام رکھا گیا — اکبر! ہاں! اکبر کسی محل میں پیدا نہیں ہوا… وہ بھٹکنے میں، جلاوطنی میں، گمنامی میں پیدا ہوا! کسے معلوم تھا کہ یہ بچہ ہندوستان کا سب سے بڑا بادشاہ بنے گا… جسے “اکبر اعظم” کہا جاتا ہے! بہرحال، وہ وقت آنا تھا تو آیا… ابھی ہمایوں اپنی جان کی لڑائی لڑ رہا تھا! اسے صرف ایک امید تھی، پڑوسی ملک ایران! جہاں صفوی سلطنت کی حکومت تھی! صفوی بادشاہ طہماسپ نے ہمایوں کو پناہ دی… لیکن کہا جاتا ہے کہ اس نے بھاری قیمت وصول کی! اس نے اسے اپنا مذہب تبدیل کرنے کو کہا! لیکن کیوں؟ صفوی حکومت کیونکہ ایسی ہی تھی… ہم صفوی سلطنت کے بارے میں الگ ویڈیو میں بتائیں گے! تو، ہمایوں نے مذہب تبدیل کیا یا نہیں، ہم نہیں کہہ سکتے… لیکن یہ طے ہے کہ اسے ایرانی مدد ضرور ملی!
ہمایوں نے دوبارہ داخلہ کیا، اس نے اپنے بھائیوں کو شکست دی… اور قندھار اور کابل واپس لے لیا! پھر اس نے دہلی لینے کی کوشش کی، لیکن اسے 15 سال لگ گئے… 1555 میں، وہ آخر کار دہلی کے تخت پر دوبارہ بیٹھا… جب شیر شاہ، اور اس کا بیٹا سلیم شاہ بھی مر چکے تھے! جو بھی تھا، طویل وقفے کے بعد، مغلیہ سلطنت پھر سے زندہ ہو گئی! لیکن تقدیر دیکھو، اتنی محنت اور کوشش کے بعد… اتنی ذلت اور مشکلات جھیلنے اور اتنے جنگیں لڑنے کے بعد، جب ہمایوں کو حکومت کرنے کا موقع ملا، تو اسے صرف چھ ماہ ملے! ایک شام، وہ اپنی لائبریری میں گرا… اور اس کے سر پر اتنی شدید چوٹ آئی کہ وہ تین دن کے اندر انتقال کر گیا!
ہمایوں چلا گیا، ایک ہندوستان چھوڑ کر… جہاں اس کے 13 سالہ بیٹے اکبر کو حکومت کرنی تھی! جس نے مذہب، سیاست اور ثقافت میں ایک نیا اور متنازعہ دور شروع کیا! مغلیہ سلطنت دوبارہ پیدا ہوئی… لیکن مضبوط ہونے سے پہلے، وہ ایک بار پھر یتیم ہو گئی!
ہمایوں کی اچانک موت کے بعد، حالات ایسے ہو گئے کہ سوری سلطنت کا ایک ہندو جرنیل، ہیمو بقل، نے دہلی پر قبضہ کر لیا… اور ہیم چندر وکرمادتیہ کے نام سے ہندوستان کا بادشاہ بن گیا! مغل فوجیں اب منتشر، بھاگ رہی تھیں! سب کہہ رہے تھے — “کابل چلتے ہیں… ہندوستان ہمارے بس سے باہر ہے!” لیکن ایک آدمی تھا جو بھاگنے سے انکاری تھا — خان خانان بیرم خان! مغل فوجی کمانڈر اور 13 سالہ اکبر کا سرپرست! اس نے شہزادے کو لیا، اور پوری فوج کے ساتھ پانی پت کے میدان میں آ گیا! وہی میدان، جہاں بابر نے ابراہیم کو شکست دے کر… مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ وہاں، نومبر 1556 میں، یہ فیصلہ ہونا تھا… کہ مغل رہیں گے یا نہیں؟ پھر دوسری جنگ پانی پت ہوئی! ایک جنگ جو شاید تلوار سے نہیں، بلکہ قسمت سے جیتی گئی!

کیا ہوا کہ ہیمو کی فوج کہرام مچا رہی تھی، فتح کے قریب تھی… مغلوں کے پاؤں اکھڑنے ہی والے تھے… کہ اچانک ایک تیر آ کر سیدھا ہیمو کی آنکھ میں لگا! یہ تیر کس نے چلایا؟ کہاں سے آیا؟ کسی کو معلوم نہیں! اس کے سپاہیوں نے صرف بادشاہ کو بے ہوش گرتے دیکھا، اور گھبراہٹ پھیل گئی! فتح شکست میں بدل گئی! اور اس طرح اکبر، جسے کل تک کوئی جانتا بھی نہیں تھا… اب ہندوستان کا بادشاہ تھا! پھر، جب وہ بڑا ہوا تو اس نے سمجھ لیا کہ… اگر ہندوستان پر حکومت کرنی ہے تو وہ بطور غیر ملکی نہیں رہ سکتا… اسے ہندوستانی بننا پڑے گا!
پھر اکبر نے پالیسی بدلی، اس نے تلوار میان میں ڈالی اور سیاست کی خنجر نکالی! راجپوتوں کو شکست دینے کے بجائے، اس نے ان سے تعلقات بنائے… ان میں شادیاں کیں! اس نے ان کی شہزادیوں کو مغلوں کی ملکائیں بنایا! اس ایک اقدام سے ہندوستان کا مزاج بدل گیا… یہاں کے جنگجو مغلوں کے سب سے بڑے محافظ بن گئے! اب مغلیہ سلطنت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں تھی… یہ پورے ہندوستان کے لیے ایک سلطنت تھی!
ٹھیک ہے، اگر یہاں رک جاتا، تو کافی تھا… لیکن اقتدار کا نشہ ایسا ہے کہ دنیا کی کوئی نشہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی! کیا ہوا کہ اکبر نے اپنی سلطنت کو متحد کرنے کے لیے مذہب کو توڑا! اس نے سوچا کہ اگر سب کا مذہب ایک ہو جائے… تو میری طاقت ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے گی! وہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتا تھا… بابر اور ہمایوں سے بالکل مختلف مزاج کا آدمی! ابتداء میں اس کا مذہبی مزاج بہت تھا… لیکن درباری علما کے اعمال سے اس کے ذہن میں شکوک پیدا ہو گئے! درباری علما اسے سنبھال سکتے تھے… لیکن انہوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی! اور معاملات اتنا بڑھ گئے کہ ایک نیا مذہب ایجاد ہو گیا… جسے “دین الٰہی” کہتے ہیں! ایک کاک ٹیل، جس میں اسلام، ہندومت، عیسائیت… اور بدھ مت، سب کچھ شامل تھا!
کیا اکبر نے واقعی ایک نیا مذہب ایجاد کیا تھا؟ یا وہ مسلمانوں میں روشن خیال اعتدال کا علمبردار تھا؟ کچھ مورخین کہتے ہیں کہ “دین الٰہی” کا نام اکبر کے دربار میں کبھی لیا ہی نہیں گیا… لیکن یہ اس کی پالیسی تھی، خواہ نام رکھا ہو یا نہ… بالآخر، یہ واقعی ایک نیا مذہب ہی تھا! یہ ہندوستان جیسے کثیر المذہب ملک میں سب کو خوش رکھنے کی پالیسی ہو سکتی ہے… لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا! ریاست کے لیے مذہب کی قربانی… بدترین مسلم حکمران بھی کبھی اختیار نہیں کرتے! اور لوگ اپنے حکمرانوں کا دین اپناتے ہیں… جب اشرافیہ کا دین ایسا ہو، تو نیچے والوں کی حالت کا اندازہ لگائیے؟
بہرحال، اکبر نے تقریباً 50 سال ہندوستان پر حکومت کی… اور اس کے بعد اس کا بیٹا سلیم، جہانگیر کے نام سے تخت پر بیٹھا! اکبر کی پالیسی کی وجہ سے، جنگوں کا دور ختم ہو چکا تھا… اب آرٹ کا دور تھا، اور ہاں! انصاف کا بھی! جہانگیر نے اپنے محل کے باہر ایک بڑی زنجیر لٹکائی… جسے “زنجیرِ عدل” کہا جاتا ہے! کوئی بھی فریادی، دن رات، اس زنجیر کو کھینچ سکتا تھا… اور براہ راست بادشاہ سے انصاف مانگ سکتا تھا! اسے اس دور کہ “سٹیزن پورٹل” سمجھیں… ہندوستان کے بادشاہ تک پہنچنے کے لیے ایک براہ راست ہاٹ لائن! انصاف ہوا یا نہیں، ہم نہیں کہہ سکتے… لیکن اس دور کے امن کو دیکھتے ہوئے، لگتا ہے کہ زنجیر اپنا کام کر رہی تھی!
تاہم، جہانگیر کے اس دور میں، ایک واقعہ پیش آیا… جو اس وقت بہت چھوٹا اور معمولی لگا… لیکن بعد میں اس نے مغلوں کی قبر کھود دی! یہ 1615 تھا، جب جہانگیر کے دربار میں ایک سفید فام شخص آیا… اس کا نام تھا تھامس رو! وہ برطانیہ کے بادشاہ کا سفیر تھا… اور اس نے ہندوستان میں تجارت کی اجازت مانگی! جہانگیر جیسا بادشاہ، جس کے نام کا مطلب ہی “دنیا کا فاتح” تھا… وہ ایک چھوٹے سے تاجر سے کیا خطرہ محسوس کرتا؟ لاپروائی سے، اس نے انگریزوں کو تجارت کی اجازت دے دی! لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ تاجر نہیں، دیمک ہیں… جو پورے ہندوستان کو کھا جائیں گے! وہ تجارتی معاہدے پر دستخط نہیں کر رہا تھا… بلکہ آنے والی نسلوں کی موت کا سرٹیفکیٹ! یہ مغلوں کی سب سے بڑی انٹیلیجنس ناکامی تھی… انہوں نے اس خطرے کو نہیں پہچانا جو سمندر پار سے آ رہا تھا!
بہرحال، جہانگیر کے بعد آیا شاہ جہاں… اور مغل اپنے عروج پر پہنچ گئے… اسے ہندوستان کا سنہری دور سمجھیں! وہ دور جب ہندوستان، واقعی “سنہری چڑیا” بن گیا! یورپ کے بادشاہ ہندوستان کی دولت کی کہانیاں سن کر تھوک نکالتے تھے! اس دولت سے، شاہ جہاں نے وہ کام کیے… جو آج بھی دنیا کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں! اس نے تاج محل بنایا… اپنی ملکہ کی یاد میں محبت کی وہ علامت… جو آج بھی دنیا کو ششدر کر دیتی ہے! پھر لال قلعہ، جامع مسجد، شالیمار باغات! پھر اس نے تخت طاؤس بنوایا… دنیا کے قیمتی ترین ہیرے اس کے خزانے میں تھے… کوہ نور سے لے کر دریا نور تک! اس کی تعمیرات شاندار تھیں، اس کے خزانے آنکھیں چکنا دینے والے تھے!
لیکن پھر تاریخ کا پرانا اصول: ہر عروج کا زوال ہوتا ہے! جب شاہ جہاں 30 سال حکومت کرنے کے بعد بوڑھا ہوا… تو اس کے اپنے بیٹوں نے اس کی زندگی کا جہنم بنا دیا! شاہ جہاں کے چار بیٹے تھے، لیکن صرف ایک تخت… سب سے بڑا داراشکوہ، باپ کا پسندیدہ تھا… جبکہ سب سے زیادہ قابل اورنگزیب تھا! شاہ شجاع اور مراد بخش بھی تھے… اور جب باپ زندہ تھا، ان بیٹوں نے آپس میں لڑائی کی! باپ بڑے بیٹے کے ساتھ تھا، اور باقی اورنگزیب کے ساتھ! اور جب ساموگڑھ کے میدان میں ان کا آمنا سامنا ہوا، تو اورنگزیب جیت گیا! اس نے اپنے والد شاہ جہاں کو آگرہ کے قلعے میں قید کر دیا… جہاں اس نے اپنی زندگی کے آخری 8 سال گزارے! یہاں، وہ ایک کھڑکی سے تاج محل کو تڑپ کر دیکھتا تھا! یہ سبق تھا… جس باپ نے اپنے بیٹوں کو لڑنے سے نہیں روکا… آخر کار وہ خود ان کی لڑائی کا نشانہ بنا!
اس طرح، شاہ جہاں کے بعد، تخت پر وہ شخص بیٹھا… جسے تاریخ یا تو ولی کہتی ہے، یا ولن! آخری عظیم مغل بادشاہ — اورنگزیب عالمگیر! جس نے سلطنت کو ایسی بلندیوں پر پہنچایا… جہاں سے صرف ایک راستہ بچا تھا: زوال کا راستہ!

سال 1658! تخت طاؤس پر وہ شخص بیٹھا جس نے اپنے باپ کو قید کیا… اور اپنے تین باغی بھائیوں کو قتل کروایا! ہاں! اورنگزیب عالمگیر! تاریخ کا سب سے زیادہ غلط فہمی کا شکار بادشاہ! ایک بادشاہ جو مرے ہوئے 300 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں… لیکن آج بھی زندہ ہیں! آج کی تاریخ کی کتابوں، میڈیا، خبروں، سیاست میں… ہندوستان میں اسے اب بھی ایک ظالم، ہندو دشمن، مندر توڑنے والے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے! لیکن کیوں؟ کیا یہ انگریزوں کی پھیلائی گئی ایک داستان ہے… یا ہندوتوا پیروکاروں کا پروپیگنڈا؟ آئیے حقیقت تلاش کرتے ہیں:
پہلی بات، اگر اورنگزیب اتنا ہی ہندو دشمن تھا، تو اس کی فوج میں ہندو جرنیلوں کی تعداد اکبر سے بھی زیادہ کیوں تھی؟ اورنگزیب کے وقت، مغل انتظامیہ میں تقریباً 33 فیصد ہندو تھے… جو پوری مغل تاریخ میں سب سے زیادہ ہے! دوسرا نکتہ، کہا جاتا ہے کہ اس نے مندر توڑے… ہاں! اس نے توڑے، لیکن کون سے؟ صرف وہ جہاں اس کے خلاف بغاوت کے منصوبے بن رہے تھے… جہاں سازشیں جنم لیتی تھیں! یہ وہی اورنگزیب تھا، جس نے درجنوں مندر اور گوردووارے بھی بنوائے… انہیں سرکاری اسٹیٹ اور زمینیں تحفے میں دیں، اور اس کے لیے جاری کردہ فرامین آج بھی موجود ہیں! سچ یہ ہے، اورنگزیب کسی مذہب کا دشمن نہیں تھا… وہ ریاست کے دشمن کا دشمن تھا! خواہ وہ اس کا اپنا بھائی ہو، یا کوئی راجہ، یا کوئی مذہبی رہنما! ریاست کے حکم سے پہلے، کسی کی کوئی اہمیت نہیں تھی!
اور ذاتی طور پر، اورنگزیب کیسا تھا؟ شاہ جہاں تاج محل کا بنانے والا تھا… لیکن اورنگزیب اس قسم کی عیش و عشرت پر یقین نہیں رکھتا تھا! اگر اس نے کچھ بنایا تو زیادہ تر مساجد تھیں، سب سے اہم اور نمایاں لاہور کی بادشاہی مسجد ہے! ذاتی طور پر بھی، اورنگزیب دیگر تمام مغل بادشاہوں سے مختلف تھا! جن کے آباؤ اجداد کے لیے شراب اور عورتیں عام تھیں… ان کی نسل میں اورنگزیب جیسا درویش اور سادہ آدمی آیا! مرنے سے پہلے بھی اس نے وصیت کی کہ اس کی قبر پر کوئی مقبرہ نہ بنایا جائے…
یہ کچی مٹی ہی رہے! وہ بڑے مغل بادشاہوں میں واحد ہے جس کا کوئی مقبرہ نہیں، کوئی مزار نہیں! پھر وہی تھا جس نے فتویٰ عالمگیری کے نام سے قانون کی حکمرانی کے لیے اسلامی قوانین مرتب کیے! بہت سے لوگوں کو اس کے بارے میں بہت سی چیزیں پسند نہیں آئیں گی… ایسے لوگ ہیں جنہیں اکبر بھی پسند نہیں… ہر بادشاہ میں خامیاں ہوتی ہیں! بادشاہت خود سب سے بڑی برائی ہے… پھر کیا بھلائی اور کیا برائی!
چنانچہ اورنگزیب کے تحت، مغلیہ سلطنت اپنے عروج پر پہنچ گئی… اسے جدید تاریخ کا سب سے بڑا ہندوستان سمجھیں! تقریباً پورا ہندوستان اس کے قدموں میں تھا… یہ واقعی ایک سپر پاور بن چکی تھی! فوجی طور پر، ہندوستان میں کوئی طاقت مغلوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی… لیکن معاشی طور پر ملک سے باہر، کوئی اس کا حریف نہیں تھا — دنیا کی ایک چوتھائی سے زیادہ معیشت مغل ہندوستان کی تھی! لیکن، یہ وہ نقطہ ہے جہاں اس عظیم بادشاہ نے ایک بہت بڑی غلطی کی! اورنگزیب نے سلطنت کو اتنا پھیلایا، اتنا بڑا بنا دیا… کہ اس کا انتظام کرنا نہ صرف مشکل، بلکہ ناممکن ہو گیا! آج کی زبان میں اسے “اسٹریٹجک اوور اسٹریچ” کہتے ہیں!
اورنگزیب نے اپنی زندگی کے آخری 26 سال — ہاں، 26 سال! — جنوبی ہندوستان میں جنگیں لڑتے ہوئے گزارے! وہ دارالحکومت دہلی سے دور رہا، آگرہ سے دور! اس نے اپنے جنون کو اتنا وقت دیا کہ… سلطنت کو بچانے کا وقت نکل گیا! نتیجہ؟ شمال میں انتظامیہ کمزور ہو گئی! مضبوط بادشاہ کی غیر موجودگی میں کرپشن بڑھ گئی! جاگیردار طاقتور ہو گئے! اور سب سے اہم، مسلسل جنگوں سے مغل خزانہ خالی ہو رہا تھا! سنہری چڑیا اب ہانپ رہی تھی! شیواجی کی قیادت میں مرہٹے گوریلا جنگ لڑ رہے تھے… ایک ایسی جنگ جس کا اورنگزیب کی بڑی فوج کے پاس بھی کوئی جواب نہیں تھا! کیوں؟ کیونکہ ایک بات یاد رکھیں…

آپ توپ سے مکھی نہیں مار سکتے، اور یہی وہ کام تھا جو اورنگزیب کر رہا تھا! یہاں تک کہ 1707 میں، تقریباً 50 سال حکومت کرنے کے بعد، اورنگزیب اپنی موت کے بستر پر تھا! اور شاید یہاں اسے احساس ہوا… کہ وہ جانے کے بعد کیا ہوگا؟ اپنے بیٹوں کو لکھے گئے آخری خطوط میں، ہم ایک عجیب مایوسی دیکھتے ہیں! اس نے لکھا: “میں چاہتا ہوں کہ تم دونوں کے درمیان اقتدار کی کوئی جنگ نہ ہو… لیکن پھر بھی، میں دیکھ سکتا ہوں کہ میرے جانے کے بعد بہت خون بہے گا!” یہ ایک ٹائٹن کا اعتراف تھا! 90 سال کی عمر میں، اورنگزیب انتقال کر گیا… اور جیسے ہی اس کی آنکھیں بند ہوئیں… سمجھ لیجیے کہ مغلیہ سلطنت کے عروج کا سورج بھی ڈوب گیا!
اس زوال کی کیا وجہ تھی؟ کیا اورنگزیب کے بیٹے نااہل تھے؟ یا مغل نظام میں کوئی خرابی تھی؟ آگے بڑھنے سے پہلے، کچھ تنقیدی تجزیہ کرتے ہیں۔ آئیے ان غلطیوں کو دیکھتے ہیں جنہوں نے ہندوستان کو ایک چوٹی کی طاقت سے ایک کالونی میں بدل دیا۔
اورنگزیب کے بعد، مغلیہ سلطنت کا زوال اچانک شروع ہوا… لیکن نہیں، یہ اچانک نہیں ہوا، یہ صدیوں پرانی بیماریاں تھیں… اندر ہی اندر افزائش پذیر، جو اب سطح پر آ چکی تھیں! ہم نے ہمیشہ سنا ہے کہ انگریز بہت چالاک تھے… ان کی ٹیکنالوجی بہتر تھی، یا ہم میں غدار پیدا ہو گئے… جو کچھ ہوا انہی کی وجہ سے ہوا! یہ سب سچ ہے، لیکن یہ پوری حقیقت نہیں ہے! حقیقت یہ ہے کہ مغلوں نے اپنے عروج کے دوران کچھ تاریخی غلطیاں کیں… جنہوں نے ان کی جڑیں ہی کاٹ دیں! اگر یہ غلطیاں نہ ہوتیں، شاید معاملات اس حد تک نہ پہنچتے!
پہلی اور سب سے بڑی غلطی تھی: نظریاتی خلا (Ideological Vacuum)! مسلم دنیا کے نقشے کو غور سے دیکھیں! جہاں بھی عرب فاتح گئے: مصر، شام، ایران، شمالی افریقہ… جہاں بھی گئے، نہ صرف زمین فتح کی، دل جیتے! وہ علاقے یا تو 100 فیصد یا اکثریتی مسلم علاقے بن گئے! وہاں کی زبان، ثقافت، سوچ… سب کچھ اسلام کے فریم ورک میں ڈھل گیا! لیکن ہندوستان میں کیا ہوا؟ غوریوں سے لے کر مغلوں تک… انہوں نے یہاں تقریباً 800 سال حکومت کی… دنیا کی کوئی قوم اتنی دیر تک کسی جگہ حکومت نہیں کرتی، پھر بھی اقلیت میں رہی! لیکن جب مغل آئے، جب وہ عروج پر تھے… جب وہ زوال پذیر ہوئے، جب وہ ختم ہو گئے…
مسلمان اقلیت میں تھے، اقلیت میں رہے، اور آج تک ہیں! کیوں؟ جواب بہت تلخ ہے… لیکن سچ یہ ہے کہ مغلوں نے بطور ریاست… کبھی کوئی منظم اور سنجیدہ کوشش نہیں کی کہ اسلام کو پھیلایا جائے! نہیں! میں یہ نہیں کہہ رہا کہ تلوار سے پھیلایا جائے… اسلام تلوار سے نہیں پھیلا، اور نہ ہی پھیل سکتا ہے! میں کہہ رہا ہوں، وہ زمین تیار کرو جہاں اسلام کو آگے بڑھنے کا موقع ملے؟ آپ کہیں گے بادشاہت ایسی ہوتی ہے… ان کی ترجیح مذہب نہیں تھی، صرف محصولات اکٹھے کرنا تھا، بس! نہیں! جہاں جمعہ کی خطبہ میں بادشاہ کا نام لیا جاتا ہے… جہاں اسے خدا کا سایہ کہا جاتا ہے… وہ ریاست ایمان کی تبلیغ کے لیے کوئی نظام نہیں بناتی؟ یہ بہت بڑی غفلت ہے، ایک کوتاہی ہے، بلکہ جرم ہے!
مغل بادشاہوں میں، اکبر نے حد پار کر دی… ریاست کو متحد کرنے کے لیے، اس نے “دین الٰہی” کا تماشہ نکالا! یعنی مسلمانوں کی حکومت خود اسلام کی جڑوں کو کمزور کرنے لگی! جب اورنگزیب آیا تو بہت دیر ہو چکی تھی! معاشرے میں اتنا بڑا خلا پیدا ہو چکا تھا… کہ اسے ٹھیک کرنا اورنگزیب کے بس سے باہر تھا، یا کسی اور کے! اگر مغل بادشاہوں نے ریاست کی طاقت اور وسائل کو… مذہب کی تبلیغ کے لیے استعمال کیا ہوتا، شاید… برصغیر کا نقشہ آج کچھ اور ہوتا! یہ ان کی سب سے بڑی نظریاتی ناکامی تھی!

دوسری غلطی، انہوں نے سمندر کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا! یہ مغلوں کی سب سے حیران کن، بلکہ میں کہوں گا، احمقانہ غفلت تھی! وہ وسطی ایشیا سے آئے تھے، وہ پہاڑوں اور میدانوں کے بادشاہ تھے… شاید اسی لیے ان کے دماغ بھی خشکی سے جڑے رہے! خود ہندوستان کا مزاج ایسا تھا… یہاں کے لوگ اپنی زمین سے نکلنے کے عادی نہیں تھے! چنانچہ نہ مغل سمجھے اور نہ مقامی لوگ کہ دنیا بدل رہی ہے! اب خطرہ خیبر درے سے نہیں آئے گا… بلکہ وہ سمندری راستے سے آ رہا تھا! واسکو ڈے گاما ہندوستان پہنچ چکا تھا… انگریز، فرانسیسی، ولندیزی، پرتگالی، سب سمندر کے راستے آئے! یورپ ایک بحری سپر پاور بن رہا تھا، لیکن مغل؟ اکبر سے لے کر اورنگزیب تک، دنیا کے امیر ترین بادشاہوں نے… اپنی بحریہ بنانے کا کبھی سوچا بھی نہیں!
اور تیسری اور سب سے خطرناک غلطی… اقتدار کے لیے جنگل کا قانون! دنیا کی ہر کامیاب سلطنت کا ایک قانون ہوتا ہے — بادشاہ کے بعد کون آئے گا؟ سب سے بڑا بیٹا؟ یا بادشاہ جو چنے؟ لیکن مغلوں کا کوئی ایسا قانون نہیں تھا! ان کا آئین ایک جملے پر مشتمل تھا… “تخت یا جنازہ!” بادشاہت کے نظام میں رشتہ داری نہیں ہوتی… باپ کی عزت، بھائی سے محبت، بیٹوں سے پیار… یہ سب ہم جیسے عام لوگوں کے لیے ہے! بادشاہت میں، ہر شخص دوسرے کا دشمن ہوتا ہے… بس! یہی وجہ ہے کہ ہر بادشاہ کی موت کے بعد…
بلکہ مرنے سے پہلے ہی، ایک خوفناک خانہ جنگی شروع ہو جاتی! سلطنت دو، تین یا چار حصوں میں بٹ جاتی! ملک کے بہترین شہزادے، بہترین جرنیل، اور بہترین سپاہی… جنہیں دشمن کے خلاف استعمال کیا جانا چاہیے، ایک دوسرے کو مار کر ختم ہو جاتے! خزانہ خالی ہو جاتا! انتظامیہ ٹھپ ہو جاتی! عوام کا اعتماد ختم ہو جاتا! سوچیں، اگر اقتدار کی منتقلی پرامن طریقے سے نہ ہو… اقتدار کی منتقلی، خواہ دو، پانچ، چھ، آٹھ سال میں ہو…
یا تیس، چالیس سال بعد بھی… کیا ہوگا؟ وہی جو مغل دور میں ہوا… جہانگیر نے اپنے باپ اکبر کے خلاف بغاوت کی! جہانگیر کے بیٹے خسرو نے اس کے خلاف تلوار اٹھائی! اور اورنگزیب؟ اس نے تمام حدیں پار کر دیں… باپ کو قید کرنے اور تینوں بھائیوں کو قتل کرنے کے بعد رکا! یہ ایک خونی چکر تھا، جو کبھی نہیں رکا! اس نظام نے ہر رشتے کو زہر آلود کر دیا… بلکہ خوف کا ماحول بھی پیدا کیا! بادشاہ اپنے بھائیوں سے ڈرتا تھا، بیٹا باپ سے ڈرتا تھا! اور یہاں تک کہ ایک وزیر دوسرے وزیر سے ڈرتا تھا! اس ماحول نے پوری مغل اشرافیہ کو نفسیاتی مریض بنا دیا! چنانچہ جب گھر اندر ہی اندر جلتا ہے… تو باہر والے ضرور فائدہ اٹھاتے ہیں!
مغلیہ سلطنت باہر سے ایک مضبوط درخت کی طرح لگتی تھی… بہت مضبوط، بہت شاندار… لیکن یہ تینوں غلطیاں اسے اندر ہی اندر دیمک کی طرح کھا رہی تھیں! اور جیسے ہی اورنگزیب کی آنکھیں بند ہوئیں… ایک طوفان آیا، اس کھوکھلے درخت کو گرانے کے لیے! باہر سے نہیں، بلکہ اندر سے ہی اٹھنے والا طوفان! جنگ کے بعد جنگ نے ایسا ماحول پیدا کر دیا… کہ بہترین کام کرائے کے سپاہی کا بن گیا — ایک کرائے کا قاتل! ہندوستان میں ایک نیا کلچر تھا: “طاقت ہی حق ہے” کا نظام! یا یوں کہیے بہتر ہوگا… “جس کے پاس پیسہ ہے… اس کے پاس سپاہی ہے!” ہم اکثر جذباتی ہو کر کہتے ہیں کہ انگریزوں نے ہم پر قبضہ کیا… لیکن سچ یہ ہے، انگریزوں نے ہمے فتح نہیں کیا، انہوں نے ہمیں خرید لیا! کیوں؟ کیونکہ اس وقت، ہندوستانی سپاہی ریاست کے لیے نہیں لڑتا تھا… وہ تنخواہ کے لیے لڑتا تھا! یہاں غالب جیسے شاعر بھی کہتا ہے:

“سو پیش ہے پیشہ آبا سپاہ گری، کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے”
یعنی غالب کو شاعری میں عزت محسوس نہیں ہوتی… وہ سپاہی گری پر فخر کرتا ہے! یہ کیا سپاہی گری تھی؟ کون ہمیں زیادہ تنخواہ دے گا؟ ہم اس کے لیے لڑیں گے! ان کے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ ان کا مالک مغل تھا… مرہٹہ، ہندو، مسلمان، یا کوئی سفید فام آدمی! بس ایک شرط تھی، تنخواہ وقت پر ملنی چاہیے! اور جب بات وقت پر تنخواہ دینے کی آئی… اس دور میں نمبر ایک تھی: “ایسٹ انڈیا کمپنی!” مغل خزانہ خالی تھا، بادشاہوں کے پاس سپاہیوں کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے نہیں تھے… وہ بغاوت کر رہے تھے
، اپنے ہی جرنیلوں کو لوٹ رہے تھے! لیکن دوسری طرف، برطانوی کارپوریٹ کمپنی کا نظام مضبوط تھا! مہینے کی پہلی تاریخ کو، سپاہی کو اس کی تنخواہ ملتی تھی… وردی ملتی تھی، راشن ملتا تھا! نتیجہ؟ ہندوستان کے بہترین لڑاکا… پوربیے، روہیلے، راجپوت، گورکھے… برطانوی فوج میں بھرتی ہونے لگے! طنز دیکھیے، انگریزوں نے ہندوستان کو خود ہندوستانیوں کے ذریعے فتح کیا! ان کی فوج میں 90 فیصد سپاہی مقامی تھے! ہمارے ہی لوگ، چند سکوں کے بدلے، اپنی اور ہماری آزادی بیچ رہے تھے! اس وقت نہ ہندوستان کا تصور تھا، نہ پاکستان کا… صرف “نمک حلالی” کا تصور تھا… اور کمپنی نمک فراہم کر رہی تھی!
لیکن یہ صرف سپاہی ہی نہیں تھے، بڑے نواب اور وزیر بھی فروخت پر تھے! اورنگزیب کے بعد جو بادشاہ آئے، جنہیں “کمزور مغل” کہا جاتا ہے… بہادر شاہ اول، جہاندار شاہ، فرخ سیر… بادشاہ نہیں، کٹھ پتلی تھے، بس! حقیقی طاقت ان کے وزراء کے ہاتھ میں تھی… وہ جسے چاہتے تخت پر بٹھاتے، جسے چاہتے ہٹاتے… بادشاہت ایک تماشہ بن چکی تھی! یہ افراتفری دیکھ کر سلطنت کے طاقتور وزراء نے فیصلہ کیا… کشتی ڈوب رہی ہے، اپنی الگ کشتی نکال لو! نظام الملک آصف جاہ، مغل کا سب سے قابل وزیر… دہلی چھوڑ کر دکن چلا گیا
اور حیدرآباد میں ایک علیحدہ ریاست قائم کر لی! سعادت خان نے اودھ میں اپنی علیحدہ ریاست قائم کر لی! بنگال، میسور، مرہٹے، سب الگ ہو گئے! اب ہندوستان ایک ملک نہیں رہا تھا… ویسے بھی کبھی ایک ملک نہیں تھا… لیکن مغلوں نے اسے سلائی کر رکھا تھا، لیکن کب تک؟ اب سب الگ ہو رہے تھے، اور آپس میں لڑ رہے تھے! مرہٹے مغلوں سے، نظام مرہٹوں سے، کوئی کسی سے! اور انگریز، پہلو میں کھڑے ہنس رہے تھے! وہ ایک کو دوسرے کے خلاف استعمال کرتے، انہیں ہتھیار بیچتے… اور آخر کار، دونوں کو نگل جاتے! یہ ان کی کلاسک پالیسی تھی: تقسیم کرو اور حکومت کرو! لیکن یاد رکھیں، انگریزوں نے تقسیم نہیں کی… ہم نے خود تقسیم پیدا کی! انہوں نے صرف فائدہ اٹھایا!
لیکن ان سے پہلے، ایک اور موقع پرست نے جیسے ہی موقع ملا، صفائی کر دی! ایک طوفان، جس نے مغل وقار کی جو کچھ باقی تھی، اسے بھی خاک میں ملا دیا! اس کا نام تھا: نادر شاہ! یہ وہ لمحہ تھا جب مغل وقار کا جنازہ اٹھا… جیسا کہ شاعر نے کہا: “رخست شد از خانہ تیمور شرف” (تیمور کے گھر سے وقارت رخصت ہو گئی)۔ اورنگزیب کی موت کے صرف 12 سال بعد… تخت پر وہ شخص بیٹھا جو مغل تاریخ کا سب سے بڑا مذاق تھا — محمد شہرنگیلا! نام سے ہی سمجھیں! یہ وہ بادشاہ تھا جس نے حکومت چھوڑ کر کلچر تھام لیا! اسے خبر ملتی کہ دشمن سرحد پار کر آیا ہے… وہ کہتا… “ہنوز دلی دور است” (دلی ابھی دور ہے)! وہ نشے میں دھت رہتا، ناچ اور موسیقی میں کھویا رہتا… ہمیشہ مذاق، شاعری، سریلی دھنیں اور رنگ! اس نے موسیقی کا والیم اتنا اونچا کر دیا… کہ آنے والے طوفان کی گرج اس کی آواز میں دب گئی!
1739 میں، ایران کا بادشاہ نادر شاہ ہندوستان میں داخل ہوا! مغلوں کے پاس لاکھوں کی فوج تھی… لیکن وہ صرف کاغذوں پر تھی! جنگ کرنال میں، یہ فوج صرف تین گھنٹوں میں شکست کھا گئی… ہاں! صرف تین گھنٹے، نادر شاہ کے دستوں سے شکست۔ محمد شاہ، جس نے شاید کبھی سورج کی روشنی دیکھی ہی نہ تھی… اب نادر شاہ کے سامنے قیدی کھڑا تھا! یہ مغلوں کی فوجی موت تھی… وہ مغل جن کی کامیابی کی بنیادی وجہ ان کی فوجی طاقت تھی… میدان جنگ میں برتری، ان کا وقار خاک میں ملا! نادر شاہ دہلی میں داخل ہوا! پھر اس شہر میں ایک قتل عام ہوا… ایک ہی دن میں 30,000 افراد مارے گئے! اور پھر، مغل خزانہ صاف کر دیا گیا!
وہ اپنے ساتھ کیا لے گیا؟ شاہ جہاں کا بنایا ہوا تخت طاؤس… دنیا کا مشہور کوہ نور ہیرا… اور اتنا سونا، چاندی، اور جواہرات کہ انہیں لے جانے کے لیے سینکڑوں ہاتھی، اونٹ اور گھوڑے کم پڑ گئے! تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ نادر شاہ ایران واپس جانے کے بعد… تین سال تک اپنے لوگوں سے ٹیکس نہیں وصول کیا… کیونکہ اس نے ہندوستان سے اتنا لوٹ مار کیا تھا!
تو یہ وہ دن تھا جب مغلیہ سلطنت کی کمر ٹوٹ گئی! وہ اب بادشاہ نہیں، بھکاری بن چکے تھے! اور یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے آگے بڑھنے کا بہترین موقع تھا… پہلے اس نے 1757 میں بنگال پر قبضہ کیا… سراج الدولہ کو جنگ پلاسی میں شکست دی، اور اس طرح باضابطہ طور پر ہندوستان کے عظیم کھیل کا حصہ بن گیا! یہاں مغلوں کو ایک موقع ملا… جیسا کہ یوسف ابن تاشفین نے اسپین کے مسلمانوں کو بحالی کا آخری موقع دیا تھا! بالکل ایسا ہی ایک لائف لائن احمد شاہ ابدالی نے دی! 1761 میں، اس نے تیسری جنگ پانی پت میں مرہٹوں کو شکست دی… لیکن مغل اس موقع سے بھی فائدہ نہ اٹھا سکے! کیونکہ ان کا نظام اتنا بوسیدہ ہو چکا تھا کہ بحالی کا کوئی امکان ہی نہیں تھا! اور آخر کار، مغل عظمت کا آخری پردہ گر گیا! 1764 میں انگریزوں کے خلاف جنگ بکسر میں شکست کے ساتھ… مغل بادشاہ کی حکمرانی ختم ہو گئی! اب وہ صرف انگریزوں کا پنشن خور تھا… اس کا کام صرف لال قلعے میں بیٹھنا، مشاعروں کا اہتمام کرنا… اور اپنی پنشن وصول کرنا تھا، بس!
یہاں تک کہ آخر کار، یہ باب بھی 1857 میں ختم ہوا! جب ہندوستان نے کمپنی راج کے خلاف بغاوت کر دی… جسے ہم آج جنگ آزادی 1857 کہتے ہیں! سب نے بوڑھے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو اپنا لیڈر بنا لیا… لیکن، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی! یہ وہ کام تھے جو بہت پہلے کیے جانے تھے… جب اتحاد دکھانے کا وقت تھا، مل کر بیٹھنے کا وقت تھا… انہوں نے ایک دوسرے سے لڑ کر اپنی طاقت خود تباہ کر لی! اب جب انگریز بہت طاقتور ہو چکے تھے، ان کے خلاف اٹھنا بے سود تھا! کوئی نظم و ضبط نہیں تھا، نہ جدید ہتھیار، اور نہ کوئی وژن! جنگ میں جذبہ اور جوش و خروش ہی کافی نہیں ہوتا… تاریخ دیکھو، جذبہ اور جوش و خروش تب ہی تمہارے کام آئیں گے… جب نظم و ضبط، جدید ہتھیار، اور وژن ہو!
چنانچہ وہی ہوا جس کا خوف تھا، انگریزوں نے بغاوت کو بری طرح کچل دیا! اور چونکہ بغاوت کا لیڈر ایک مسلمان بادشاہ تھا… اس لیے سزا بھی زیادہ تر مسلمانوں کو دی گئی! دہلی کے ہر درخت سے کسی عالم یا سپاہی کی لاش لٹکتی تھی! اور بادشاہ کو گرفتار کر لیا گیا! اور پھر ایک ایسا مظالم کیا گیا جس نے انسانیت کو شرمندہ کر دیا! انگریز فوج نے بہادر شاہ ظفر کے بیٹوں اور پوتوں کے سر قلم کر دیے… انہیں ایک تھال میں سجا کر ناشتے کے طور پر پیش کیا! اور پھر بادشاہ کو جلاوطن کر کے برما بھیج دیا… جہاں اس نے اپنی زندگی کے آخری سال ایک چھوٹے سے کمرے میں گزارے! اور اس نے اپنی بے بسی کا مرثیہ خود لکھا:
“کتنا بدقسمت ہے ظفر، دفن کے لیے… دو گز زمین بھی نہ ملی اسے اپنی محبوب کی گلی میں”
پہلا مغل بادشاہ (بابر) ہندوستان سے باہر دفن ہوا… اور آخری مغل بادشاہ بھی! ایک سلطنت کا چراغ جو 300 سال تک جلتا رہا، ہمیشہ کے لیے بجھ گیا!
لیکن کیا واقعی مغل ختم ہو گئے؟ یا وہ آج بھی ہماری ثقافت میں، ہماری تہذیب میں… ہماری زبان، ہمارے کھانے، یہاں تک کہ آج ہمارے ڈی این اے میں زندہ ہیں؟ مغل گئے، لال قلعہ خالی ہوا، شہزادے بھکاری بن گئے! لیکن، کیا مغل واقعی ختم ہو گئے؟ نہیں! آج بھی، جب ہم اردو بولتے ہیں، ہم مغلوں کی زبان بول رہے ہیں! جب ہم بریانی یا قورمہ کھاتے ہیں، ہم ان کا ذائقہ چکھ رہے ہیں! جب ہم شیروانی پہنتے ہیں، ہم ان کا لباس پہن رہے ہیں! انہوں نے ہمیں صرف عمارتیں نہیں دیں، انہوں نے ہمیں ایک تہذیب دی، ایک شناخت دی… جس کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمانوں نے بعد میں کہا… ہم ایک علیحدہ قوم ہیں! اگر مغل نہ ہوتے… شاید آج برصغیر میں مسلمانوں کی کوئی شناخت نہ ہوتی… وہی سیاسی شناخت جو پاکستان کی بنیاد بنی! یہ ان کا ہم پر احسان ہے!
لیکن… رکو! ہم نے ان سے صرف خوبیاں نہیں لیں، ہم نے ان کی خامیاں بھی وراثت میں پائیں! آج بھی، وہ “مغل وائرس” ہمارے خون میں موجود ہے… جس نے ادارے نہیں بنائے، بلکہ شخصیتیں بنائیں، بادشاہ بنائے! آج بھی، ہم اداروں کو مضبوط نہیں کر سکتے… ہم صرف ایک لیڈر کا انتظار کرتے ہیں، ایک مسیحا کا… جو آئے اور جادو کی چھڑی لہرا کر سب ٹھیک کر دے! ہم ابھی بھی ذہنی طور پر رعایا ہیں، شہری نہیں!
دوسری خامی، چاپلوسی اور سفارش! شاہی نظام میں، خاص طور پر مغل دربار میں، اہلیت کام نہیں کرتی تھی… چاپلوسی اور سفارش چلتی تھی، بس! آج بھی، ہمارا پورا نظام سفارشوں، سلیپوں اور رشتوں پر چلتا ہے! یہ وہی درباری ثقافت ہے جو ہمارے ڈی این اے میں داخل ہو گئی ہے!

خامی نمبر 3 اپنوں سے جنگ! مغلوں میں اقتدار کے لیے بھائی بھائی سے لڑتے تھے… اور آج بھی، ہماری سیاست، ہمارے ادارے، اور ہماری سیاسی جماعتیں… ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں!
مغلیہ سلطنت ایک آئینہ ہے، اس میں ہم اپنا ماضی دیکھتے ہیں… اور افسوس، اپنا مستقبل بھی! وہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت تھے… لیکن مذہب، ٹیکنالوجی اور نظم و ضبط سے دوری نے انہیں غلام بنا دیا! آج ہمارے پاس ایٹم بم ہے، فوج ہے، وسائل ہیں… لیکن کیا ہمارے پاس وہ نظام ہے جو قوموں کو زندہ رکھتا ہے؟ فیصلہ آپ کا ہے! کیونکہ مغلوں کی کہانی ختم ہو چکی ہے… لیکن ہماری کہانی ابھی لکھی جا رہی ہے!




